لوڈ ہو رہا ہے...

گرمی میں ہائیڈریشن - پاکستانی گرمیوں میں صحت کی حفاظت

گرمی کا موسم

پاکستان میں گرمیوں کا موسم مئی سے ستمبر تک رہتا ہے اور اس دوران درجہ حرارت ۴۵ ڈگری سیلسیس سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔ ایسے موسم میں جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا نہ صرف آرام کے لیے بلکہ صحت اور زندگی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہر سال پاکستان میں گرمی کی لہر کے دوران بہت سے لوگ لو لگنے اور پانی کی کمی کی وجہ سے بیمار پڑتے ہیں۔

گرمی میں جسم پر کیا اثر پڑتا ہے؟

جب باہر کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہو تو جسم پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ ایک گھنٹے میں جسم ایک سے دو لیٹر تک پسینہ بہا سکتا ہے۔ اگر اس پانی کی کمی کو پورا نہ کیا جائے تو پانی کی کمی ہو جاتی ہے جو سنگین صحت مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

پاکستان میں گرمی کی لہر کے دوران سب سے زیادہ خطرہ بزرگوں، بچوں اور باہر کام کرنے والے مزدوروں کو ہوتا ہے۔ ان کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

لو لگنے کی علامات

لو لگنا ایک سنگین طبی حالت ہے جس میں فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مدد لیں:

  • جسم کا درجہ حرارت ۴۰ ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہونا
  • چکر آنا اور بے ہوشی
  • تیز سر درد
  • پسینہ بند ہو جانا
  • جلد کا سرخ اور گرم ہونا
  • الجھن اور بے چینی
  • متلی اور قے

لو لگنے پر فوری اقدامات

اگر کسی کو لو لگ جائے تو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ پر لے جائیں، ٹھنڈا پانی پلائیں، گیلے کپڑے سے جسم کو ٹھنڈا کریں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

گرمی میں ہائیڈریٹ رہنے کے عملی طریقے

پاکستانی گرمیوں میں صحت مند رہنے کے لیے درج ذیل عادات اپنائیں:

  • پانی کی بوتل ہمیشہ ساتھ رکھیں: گھر سے نکلتے وقت پانی کی بوتل ضرور لے جائیں۔
  • ہر گھنٹے پانی پیئں: پیاس کا انتظار نہ کریں۔
  • صبح سویرے باہر نکلیں: گرمی کے عروج سے پہلے کام نمٹائیں۔
  • ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں: سفید اور ہلکے رنگ گرمی کم جذب کرتے ہیں۔
  • چھاؤں میں رہیں: دوپہر ۱۲ سے ۴ بجے تک دھوپ میں نہ نکلیں۔
  • پھل اور سبزیاں کھائیں: پانی سے بھرپور غذائیں کھائیں۔

گرمی میں کھانے پینے کی احتیاطیں

گرمی میں نہ صرف پانی پینا بلکہ کھانے کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ بھاری اور تیل والے کھانے گرمی میں ہاضمے کو متاثر کرتے ہیں۔ ہلکی غذا جیسے دہی، سلاد، پھل اور سبزیاں زیادہ مناسب ہیں۔

پانی کا گلاس

بچوں کی گرمی میں خاص دیکھ بھال

بچوں کا جسم گرمی کے اثرات کو بڑوں کی نسبت زیادہ جلدی محسوس کرتا ہے۔ بچوں کو ہر آدھے گھنٹے میں پانی پلائیں۔ انہیں دوپہر کی گرمی میں باہر کھیلنے سے روکیں اور گھر میں ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔

بزرگوں کا خاص خیال

بزرگوں میں پیاس کا احساس کم ہو جاتا ہے اس لیے وہ اکثر کافی پانی نہیں پیتے۔ گھر کے افراد کو چاہیے کہ بزرگوں کو باقاعدگی سے پانی پینے کی یاد دلائیں۔ بزرگوں کو روزانہ کم از کم ۸ گلاس پانی پینا چاہیے۔

مزید معلومات کے لیے عالمی ادارہ صحت کی گرمی اور صحت گائیڈ دیکھیں۔

گرمی میں الیکٹرولائٹس کی اہمیت

پسینے کے ساتھ صرف پانی نہیں بلکہ نمک، پوٹاشیم اور میگنیشیم جیسے معدنیات بھی نکلتے ہیں۔ ان کی کمی سے پٹھوں میں درد، تھکاوٹ اور چکر آ سکتے ہیں۔ اس لیے گرمی میں پانی کے ساتھ الیکٹرولائٹس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

  • لیموں پانی میں نمک ملا کر پیئں
  • ناریل کا پانی قدرتی الیکٹرولائٹس کا اچھا ذریعہ ہے
  • او آر ایس کا محلول بھی مفید ہے
  • کیلا کھائیں جس میں پوٹاشیم ہوتا ہے